طویل ڈرائیونگ کا نقصان

برطانیہ کی لیسٹر یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے نئی تحقیق میں بتایا ہے: ’’جو لوگ روزانہ دو گھنٹے یا اس سے زائد ڈرائیونگ کریں، ان کے جسم میں ایک انوکھی تبدیلی جنم لیتی ہے … اور وہ یہ کہ وہ بتدریج احمق ہوتے جاتے ہیں۔ وجہ یہ کہ طویل ڈرائیونگ سے ان کا آئی کیو لیول کم ہو جاتا ہے۔‘‘

سائنسدانوں نے اس تحقیق میں 5 لاکھ ڈرائیوروں کی یادداشت اور آئی کیو لیول کے ٹیسٹ لیے اور پانچ سال تک ان کی ڈرائیونگ کی طوالت اور ورزش کی عادات کا ریکارڈ حاصل کرتے رہے۔ پانچ سال بعد ان کے دوبارہ ٹیسٹ لیے گئے تو نتائج سے معلوم ہوا کہ جو لوگ روزانہ 2گھنٹے یا زائد وقت تک گاڑی چلاتے رہے تھے۔ ان کی یادداشت اور آئی کیولیول میں بہت زیادہ کمی آ چکی۔

تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ، پروفیسر کرشن بکرانیا کا کہنا ہے’’گاڑی چلاتے ہوئے ڈرائیور کا دماغ غیرمتحرک رہتا ہے۔ اور جب ڈرائیور مستقل طور پر روزانہ دو گھنٹے تک گاڑی چلائے تو دماغ کا غیرمتحرک رہنا منفی طور پہ ان کی یادداشت اور آئی کیولیول پر اثرانداز ہو جاتا ہے۔‘‘